حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لذتوں کو کاٹنے والی کو بہت یاد کرو۔" رواہ الترمذی

Teen kamon mein ta kher na kero



تین کاموں میں تاخیر نہ کرو

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "علی! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو، جب نماز کا وقت آ جائے (تو اسے فوراً ادا کرو) اور جنازہ جب تیار ہو (تو اسے بہت جلد زمین کے سپرد کر دو) اور جب تم غیر شادی شدہ عورت کا ہمسر پاؤ تو (بلا تاخیر اس سے اس کا نکاح کر دو) ۔"  (مشکو ٰة)

Teen din se zaid narazgi darust nahi




تین دن سے زائد ناراضگی درست نہیں

"حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زائد علیحدہ (ناراض) رہے۔ کیونکہ اگر وہ ایسا کریں تو وہ حق سے روگردانی کے مرتکب ہوں گے۔ ان میں سے جو پہلے لوٹے گا تو اس کا پہلا لوٹنا کفارہ بن جائے گا۔ اگر وہ اسلام کرے اور اس کو جواب نہ دیا جائے تو فرشتے اسے جواب دیتے ہیں اور دوسرے کو شیطان جواب دیتا ہے اور اگر اسی ناراضگی پر وہ مر جائیں تو جنت میں کبھی بھی اکٹھے نہ ہو پائیں گے۔" (بخاری)



Teen baton ki naseehat




تین باتوں کی نصیحت

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا، کہ حضرت  (مجھے بتا دیجئے کہ) نجات حاصل کرنے کا گُر کیا ہے؟ (اور نجات حاصل کرنے کے لئے مجھے کی کام کرنے چاہئیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اپنی زبان پر قابو رکھو (وہ بے جا نہ چلے) اور چاہئے کہ تمہارے گھر میں تمہارے لئے گنجائش ہو، اور اپنے گناہوں پر اللہ کے حضور میں رویا کرو۔" (رواہ احمد الترمذی)

تشریح: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ بن عامر کے سوال پر نجات حاصل کرنے کا گُر بتایا اور تین باتوں کی نصیحت کی اول زبان پر قابو رکھو ۔ زبان کا غیر محتاط استعمال انسان کو ذلیل و خوار کر دیتا ہے جبکہ حسن کلام کی تاثیر سے دشمن کو دوست بنایا جاسکتا ہے ۔ جس نے اپنی زبان پر قابو پا لیا، اس نے بہت بڑا کام کیا ۔ دوم یہ کہ بندہ فارغ وقت ادھر ادھر گھومنے کی بجائے اپنے گھر میں گزارے تا کہ اپنے بیوی بچوں میں رہ کر گھر کے کام کاج کرے یا عبادت کرے ۔ سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ سے عاجزی، انکساری کے ساتھ رو رو کر اپنے گناہوں کی بخسش مانگے ۔ جس کی خطائیں بخش دی گئیں وہ کامیاب ہوا ۔ یہ کام نجات دلانے والے ہیں ۔