حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لذتوں کو کاٹنے والی کو بہت یاد کرو۔" رواہ الترمذی

Maal e ghaneemat mein khayanat ka anjam




مال غنیمت میں خیانت کا انجام

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ فتح خیبر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے فلاں شہید ہوا، فلاں شہید ہوا۔ یہاں تک کہ ان کا گزر ایک مقتول شخص پر سے ہوا تو انہوں نے کہا کہ یہ شخص بھی شہید ہے۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہرگز نہیں، میں تو اسے آگ میں دیکھ رہا ہوں کیونکہ اس نے مال غنیمت میں سے ایک چادر یا کمبل چرایا تھا۔ پھر فرمایا:اے عمر لوگوں میں تین بار منادی کر دو کہ جنت میں مومنوں کے سوا کوئی داخل نہ ہو سکے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حکم کی تعمیل کی اور لوگوں میں تین بار منادی کر دی کہ جنت میں مومنوں کے سوا کوئی داخل نہ ہو سکے گا ۔"

اس حدیث سے اندازہ ہوا ہے کہ ایک شخص راہِ حق میں قتل ہو جانے اور بظاہر شہادت کا رتبہ حاصل کرنے کے باوجود اس بنیاد پر جہنمی قرار پایا کہ اس نے خیانت کا ارتکاب کیا تھا اور یہ چیز ایمان کے منافی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس کے دل میں ایمان ہو وہ ایسا کام نہیں کر سکتا جو اللہ کی نافرمانی والا ہو اور کسی کا حق مارنے والا ہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی زنی حالت ایمان میں زنا نہیں کرتا، کوئی چھوڑ حالت ایمان میں چوری نہیں کرتا اور کوئی شرابی حالت ایمان میں شراب نہیں پیتا۔ یہ دین کا پہلو ہے جس کی طرف اکثر و بیشتر مسلمان توجہ نہیں فرماتے اور ایمان کے دعوے دار ہونے کے باوجود بد دیانتی کرنے سے گریز نہیں کرتے اور اپنے مناصب کی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ ہم پھر بھی مومن ہیں ۔ 

Mahir e Quran ka maqam




ماہر قرآن کا مقام

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"جس نے قرآن میں مہارت حاصل کر لی ہو (اور اس کی وجہ سے وہ اس کو، حفظ یا ناظرہ، بہتر طریقے پر اور بے تکلف رواں پڑھتا ہو) وہ معزز اور وفادار و فرمانبردار  فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔ اور جو بندہ قرآن پاک (اچھا یاد اور رواں نہ ہونے کی وجہ سے زحمت و مشقت کے ساتھ) اس طرح پڑھتا ہو کہ اس میں اٹکتا ہو تو اس کو دو اجر ملیں گے (ایک تلاوت کا اور دوسرا زحمت و مشقت کا) ۔" (صحیح مسلم)



Logon se sawal nah kiya jaey




لوگوں سے سوال نہ کیا جائے

حضرت ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگر کبھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے (اونٹنی کی) مہار گر جاتی تھی تو وہ اپنی اونٹنی کو بٹھاتے اور پھر مہار پکڑتے۔ لوگوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو کیوں حکم نہیں دیتے کہ ہم آپ کو مہار پکڑا دیں؟ اس پر انہوں نے فرمایا:"مجھے میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ میں لوگوں سے کوئی سوال نہ کروں۔" (مسند احمد)

'>تشریح: یہ بشارت ان بندوں کے لئے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اتنی دولت دی ہے کہ وہ بہت اعلیٰ اور بیش قیمت لباس بھی استعمال کر سکتے ہیں لیکن وہ اس مبارک جذبے کے تحت ایسا لباس نہیں پہنتے کہ اس کی وجہ سے دوسرے بندوں پر میرا تفوق اور میری بڑائی ظاہر ہو گی اور شاید کسی غریب و نادار بندے کا دل ٹوٹے۔ بلاشبہ بہت ہی مبارک اور پاکیزہ ہے یہ جذبہ۔ اس حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جو بندے اس جذبے کے تحت ایسا کریں گے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اہل محشر کے سامنے انہیں اس انعام و اکرام سے نوازے گا کہ اہلِ ایمان جنتیوں کے لئے جو اعلیٰ سے اعلیٰ جوڑے وہاں موجود ہوں گے، فرمایا جائے گا کہ ان میں سے جو جوڑا چاہو، لے لو اور استعمال کرو۔