حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لذتوں کو کاٹنے والی کو بہت یاد کرو۔" رواہ الترمذی

Aag ka hamla


آگ کا حملہ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"(دوزخ کی) آگ (قیامت کے دن)بعض لوگوں کے ٹخنے پکڑ لے گی۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے گھٹنوں تک پہنچ جائے گی۔ بعض بدنصیبوں کی کمر بھی اس کے شعلوں کی لپیٹ میں آ جائے گی اور بعض لوگ ہنسلی تک آگ میں غرق ہوں گے۔" (مسند احمد)

Aafiyet ki fazeelat

عافیت کی فضیلت

حضرت اوسط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: پچھلے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ پر کھڑے ہوئے تھے۔ اور پھر ان پر گریہ طاری ہوگیا۔ پھر انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان و یقین کے بعد افضل ترین چیزعافیت ہے اور تم پر سچائی اختیار کرنا لازم ہے کیونکہ سچائی وفاداری کی ساتھی ہے اور ان دونوں کا ٹھکانہ جنت ہے،اور جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ اور نافرمانی ساتھی ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ باہم حسد نہ کرو اور بغض نہ رکھو۔ باہمی تعلقات نہ توڑو اور ایک دوسرے سے جدا نہ رہو اور بھائی بھائی بن کر رہو جیسے اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم پرفرمایا ہے۔ (رواہ احمد و ابن ماجہ)

Aadil hakim ki fazeelat

عادل حاکم کی فضیلت

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کرنے والا حاکم قیامت کے دن اللہ کو دوسرے سب لوگوں سے زیادہ محبوب اور پیارا ہوگا اور اس کو اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ قرب حاصل ہوگا اور (اس کے برعکس)وہ ارباب حکومت قیامت کے دن اللہ کو سب سے زیادہ مبغوض اور سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے جو ظلم کے ساتھ حکومت کرنے والے ہوں گے۔    (روا ہ الترمذی)

انسانوں میں سے جس کے کاندھوں پر ذمہ داری کا بوجھ جتنا زیادہ ہو گا اس کا معاملہ اتنا ہی کٹھن ہو گا۔ اس لئے مشہور ہے کہ کوئی شخص جتنا زیادہ با اختیار ہو گااتنا ہی اس کے بے راہ رو ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں عدل و انصاف کرنے والا حاکم تو واقعی بہت بڑے رتبے کا اہل قرار پائے گا اور قیامت کے دن جن لوگوں کو اللہ کے عرش کا سایہ نصیب ہو گا ان میں بھی اولیت عادل حاکم کو ہی حاصل ہو گی۔لیکن اگر حکمران عدل کرنا چھوڑ دے تو ظلم بھی انتہا کو پہنچے گا۔ اس لئے گرفت بھی سخت ہوگی۔

اگر حاکم کی نیت عدل کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ بھی مدد فرماتے ہیں اور جب اس کی نیت خراب ہو جائے تو پھر شیطان ان کا رفیق بن جائے گا اور وہ اسے جہنم پہنچا کر رہے گا۔ اس لئے محنت و لگن سے صحیح فیصلہ تک پہنچنے پر دوہرا اجر بھی ہے اورنیت نیک ہو لیکن فیصلہ کرنے میں غلطی ہو جائے تو اس پر مواخذہ نہیں ہے بلکہ اکہرا اجر ہے۔