حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لذتوں کو کاٹنے والی کو بہت یاد کرو۔" رواہ الترمذی
Showing posts with label Ibn e Majah. Show all posts
Showing posts with label Ibn e Majah. Show all posts

Zulam mein muaawnat kerne wale ke lie waeed




ظلم میں معاونت کرنے والے کے لئے وعید

حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی نے کسی جھگڑے پر کسی ظلم کی مدد کی یا کسی ظلم پر مددگار بنا تو وہ اللہ کی ناراضگی میں رہتا ہے جب تک کہ اس ظلم سے علیحدہ نہ ہو جائے۔
(رواہ ابن ماجہ و صححہ امام البانی فی احادیث الصحیحتہ  ١٠٢١)

Zulam mein maawnat kerne wale ke lie waeed

Hazrat Abdullah bin Umar R.A. bayan kerte hein keh Rasool Allah SAWW
ne fermaya jis kisi ne kisi jagrhay per kisi zulam ki madad ki 
ya kisi zulam per madad  gaar bana to woh Allah ki narazgi mein rehta he 
jab tak keh us zulam se alehda nah ho jaey

Rawah Ibn Majah o Sahah Imam Albani fi Ahadees Alsahihah 1021

Zakheerah andozi kerne wale ke lie waeed




ذخیرہ اندوزی کرنے والے کے لیے وعید

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جالب (یعنی غلہ وغیرہ باہر سے لا کر بازار میں بیچنے والے تاجر) مرزوق ہے (یعنی اللہ کے رزق کا کفیل ہے) اور محتکر (یعنی مہنگائی کے لیے ذخیرہ اندوزی کرنے والا) ملعون ہے۔ (یعنی اس پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہے اور وہ رحمت و برکت سے محروم ہے)

(رواہ ابن ماجہ)

اسلام کی اقتصادی تعلیمات کا مقصود یہ ہے کہ عام آدمی تک اشیاء خوردونوش بسہولت پہنچتی رہیں اور مہنگائی نہ ہونے پائے تا کہ عام آدمی پر ناروا بوجھ نہ آئے۔ لیکن آج کل بڑی بڑی تجارتی کمپنیاں اور سرمایہ دار مڈل مین کی حیثیت سے اشیاء سستے داموں خرید کر ذخیرہ کر لیتے ہیں اور پھر خود ساختہ مہنگائی پیدا کر کے ان کو مہنگے داموں بیچتے ہیں۔ یہ صریحاًظلم ہے اور اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ذخیرہ کرنے والوں کو ملعون قرار دے رہے ہیں۔مسلمانوں کو تو چاہئے کہ اللہ کی مخلوق کی ضروریات کو سامنے رکھیں، جائز منافع پر قناعت کریں اور آخرت کی جواب دہی کو سامنے رکھیں، لیکن افسوس کہ مسلمانوں میں بھائی چارہ ختم ہو گیا ہے۔ چونکہ اسلامی اقدار کو ہم نے عام نہیں کیا اس لئے ہمارے اندر اخوت اسلامی کے حوالے سے برادرانہ احساسات پروان نہیں چڑھ سکے کہ ہم اپنے بھائیوں کا خیال رکھیں اور اپنے تھوڑے سے فائدے کے لئے مخلوق خدا کو مہنگائی کے وبال میں نہ ڈالیں۔ کاش پاکستان میں اسلام کا نظام معیشت و معاشرت و سیاست نافذ کر دیا جائے کہ ہم ایک دوسرے کو اپنا خیال کرنے والے بن جائیں ۔

Zuhd ki haqeeqat o fazeelat




زہد کی حقیقت و فضیلت

سیدنا ابو العباس سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جب اسے بجا لاؤں تو اللہ تعالیٰ اور تمام لوگ مجھ سے محبت کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ تم سے محبت فرمائے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے نیاز ہو لوگ تم سے محبت کریں گے۔" (رواہ ابن ماجہ)

Wazzu aur nafal namaz ki fazeelat




وضو اور نفل نماز کی فضیلت

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات سنتا ہوں تو اس سے اللہ تعالیٰ جو چاہیں مجھے نفع پہنچاتے ہیں اور جب کسی دوسرے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنتا ہوں تو اس سے حلف لیتا ہوں کہ اس نے واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔پھر گر وہ حلف اٹھا لے تو اسے سچ مان لیتا ہوں اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مجھے بتایا او ر انہوں نے واقعی سچ کہا (ان سے حلف لینے کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: "کوئی انسان اگر گناہ کر بیٹھے پھر وہ وضو کرے اچھی طرح اور دو رکعت نماز پڑھے اور پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی مل جاتی ہے۔" (رواہ احمد و ابن ماجہ)



Shawal ke chay rozon ka sawab




شوال کے چھ روزوں کا ثواب

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رمضان کے روزے رکھ کر (ہر سال) شوال میں بھی چھ روزے رکھے اسے عمر بھر کے روزوں کا ثواب ملتا ہے ۔
(رواہ مسلم و ابوداؤد و النسائی و الترمذی و ابن ماجہ)

Shab Qadr se mehroomi, hurmaan naseebi




شب قدر سے محرومی، حرمان نصیبی

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ آیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تمہارے لئے مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات (یعنی شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔جو شخص اس رات (کی سعادت) سے محروم رہا (کہ اسے پوری رات یا کم سے کم رات کے کچھ حصوں میں بھی جاگنے اور عبادت خداوندی میں مشغول ہونے کی توفیق نہ ہوئی) تو وہ ہر سعادت و بھلائی سے محروم رہا۔ اور یاد رکھو شبِ قدر کی سعادت سے حرمان نصیب ہی محروم ہوتا ہے۔" (رواہ ابن ماجہ)

ارشاد گرامی "تمہارے لئے یہ مہینہ آیا ہے" کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کا مقدس و بابرکت مہینہ دین و دنیا کی سعادتیں اور بھلائیاں اپنے دامن میں لئے آ گیا ہے، لہٰذا اس کے آنے کو غنیمت جانو، دن میں روزے رکھ کر اور رات میں عبادت خداوندی یعنی تراویح و تلاوت قرآن اور تہجد وغیرہ میں مشغول ہو کر اس مہینے کی برکتیں اور سعادتیں حاصل کرو۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ "لیلتہ القدر" کی سعادتوں سے وہی شخص محروم رہتا ہے جو سعادت و بھلائی کے معاملے میں بدنصیب ہوتا ہے اور جسے عبادت کا ذوق نہیں ہوتا۔

Rishwet lene aur dene wale per laanat





رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے رشوت لینے والے اور دینے والے پر۔ (رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و الترمذی)

رشوت کا معاملہ ناجائز فائدہ اٹھانے کے لئے اور اپنے حق سے بڑھ کر لینے کے لئے اختیار کیا جاتا ہے اور اس میں ایک شخص اپنے ذاتی فائدے کی خاطر ملت کا نقصان کرتا ہے۔ رشوت کی ابتدا ہمیشہ سفارش سے ہوتی ہے جب غلط سفارش سے اپنا کام نکلوانے اور ترجیح حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر جس کے پاس سفارش نہ ہو وہ مجبوراًرشوت دینے کی راہ اختیار کرتا ہے۔ یعنی سفارش رشوت کی بڑی بہن ہے۔ اپنے منصب سے ناجائز فائدہ اٹھانا اور اپنے منصب ومقام کی بنیاد پر دوسروں سے اپنا کام جلد کروانا ہی وہ بددیانتی ہے جو رشوت کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اور یہ عمل ہمیشہ حاکمانِ وقت سے شروع ہو کر نیچے قوم میں سرایت کرتا ہے۔اور پھر ایسا ناسور بنتا ہے کہ پوری قوم کی ساکھ کو ختم کر دیتا ہے اور ذاتی فوائد کے لئے اجتماعی زندگی کا بیڑہ غرق کروا لیا جاتا ہے۔ یہ اس معاشرے میں بیماری آتی ہے جہاں کوئی باہم قدر مشترک کسی ملت میں ختم ہو جائے اور ایک دوسرے کے لئے اپنائیت نہ رہے۔

Namazi ke aage se guzerna jurm azeem he





نمازی کے آگے سے گزرنا جرم عظیم ہے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ آقاۓ نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اگر تم میں سے کوئی یہ جان لے کہ اپنے مسلمان بھائی کے سامنے سے جب کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو عرضاً گزرنا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے لیے سو برس تک کھڑے رہنا ایک قدم آگے بڑھانے سے بہتر معلوم ہو۔" (رواہ ابن ماجہ)

اس حدیث میں نماز پڑھتے ہوئے آدمی کے سامنے سے گزرنے سے منع کرتے ہوئے اس فعل کی سنگینی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگلی صف میں نماز پڑھنے والے جب مسجد سے نکلنا چاہتے ہیں تو پچھلی صفوں میں سنتیں اور نفل پڑھنے والوں کے سامنے سے گزر جاتے ہیں ۔ چنانچہ اس حدیث کو عام کرنے کی ضرورت ہے کہ نماز کے سامنے سے نہیں گزرنا چاہئے چاہے کتنی ہی دیر انتظار کرنا پڑے، کیونکہ اس معاملے میں بے احتیاطی اور غفلت گناہِ عظیم کا باعث ہے۔ 

Pait ke bal letna dozakhiyun ka tareeqa he




پیٹ کے بل لیٹنا دوزخیوں کا طریقہ ہے

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قدم مبارک سے مجھے ہلایا اور فرمایا:"اے جندب!یہ دوزخیوں کے لیٹنے کا طریقہ ہے۔" (سنن ابی ماجہ)



Namazi ke aage se guzerna




نمازی کے آگے سے گزرنا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اگر تم میں کسی کو معلوم ہو جائے کہ نماز میں اپنے بھائی کے سامنے سے گزرنےمیں کتنا گناہ ہو گا تو اس کے لیے سو سال کھڑا رہنا اس ایک قدم اٹھانے سے بہتر ہو گا۔" (رواہ ابن ماجہ)

Merdon ke lie safaid rang ke kapre ziada pasandeedah hein




مردوں کے لئے سفید رنگ کے کپڑے زیادہ پسندیدہ ہیں

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :"سفید کپڑے پہنا کرو، وہ زیادہ پاک صاف اور نفیس ہوتے ہیں اور سفید کپڑوں ہی میں اپنے مردوں کو کفنایا کرو۔" (رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ)

Maqrooz se hadiyah waghera lena




مقروض سے ہدیہ وغیرہ لینا

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آدمی کسی کو قرض دے تو اگر وہ مقروض آدمی قرض دینے والے کو کوئی چیز ہدیہ دے یا سواری کے لئے اپنا جانور پیش کرے تو چاہئے کہ وہ ہدیہ قبول نہ کرے  اور سواری کو استعمال میں نہ لائے الا یہ کہ ان دونوں کے درمیان پہلے سے اس طرح کا تعلق یا معاملہ ہوتا رہا ہے۔ (رواہ  ابن ماجہ)

یہ ہے وہ محتاط طرز عمل جس کی طرف اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی فرمائی ہے، کہ اگر کوئی مقروض شخص قرض دینے والے کو کوئی ہدیہ پیش کرے تو وہ اسے قبول نہ کرے، اس لئے کہ ایسے معاملے میں سود کا شائبہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ جبکہ سود اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کے شائبہ سے بھی بچنا لازم ہے۔ اس گناہ پر تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی وعید ہے۔ ہم بعض مالی معاملات کی ان صورتوں کو جو سود کی حرمت سے پہلے جائز تھیں صرف اس لئے جائز ٹھہرائے ہوئے ہیں کہ ان کا ذکر احادیث میں ہے اور یہ نہیں سوچتے کہ سود ٩ھ میں حرام ہوا ہے جبکہ ان معاملات کے بارے میں ذکر پہلے دور سے متعلق ہے۔ غور کرنا چاہئے کہ مزارعت اور لگان پر زمین حاصل کرنا بھی کچھ اس نوع کا معاملہ نہیں ہے!

Khuddar ghareeb momin uska Mehboob ha




خوددار غریب مومن اللہ کا محبوب ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ اپنے اس مؤمن بندے سے محبت کرتا  ہے جو غریب اور عیالدار ہونے کے باوجود سوال کرنے سے بچتا ہے۔" (رواہ ابن ماجہ)

اللہ تعالیٰ پاک دامن اور خود دار مومن سے محبت کرتا ہے جو عیالدار اور مفلس ہونے کے باوجود کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا، اپنی عزتِ نفس کو مجروح نہیں کرتا اور ہر گناہ اور برائی سے بچ کر رہتا ہے۔ ہر کھاتے پیتے مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے مومن بھائی کو حقیر نہ سمجھے، بلکہ اس کی مالی اعانت کرے اور اسے معاشی پریشانی سے نکالے۔ 

Khao, pehno, magar istakbar aur israf se bacho




کھاؤ، پہنو، مگر استکبار اور اسراف سے بچو

عمرو بن شعیب اپنے والد شعیب سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے دادا حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اجازت ہے کھاؤ، پیئو، دوسروں پر صدقه کرو، اور کپڑے بنا کر پہنو، بشرطیکہ اسراف اور نیت میں فخر و استکبار نہ ہو۔" (رواہ احمد و نسائی و ابن ماجہ)

تشریح: کھانے پینے کی چیزیں اور لباس اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔ جس کو اچھی خوراک اور اچھا لباس میسر ہو اسے ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے۔ شرط یہ ہے کہ نہ تو اسراف ہو اور نہ دل میں فخر اور تکبر ہو اور چاہیے پھر یہ کہ آدمی ان خداد نعمتوں سے دوسرے ضرورت مندوں کی کھانے اور لباس سے مدد کرے۔

Jumah ke lie ache kapron ka aihtmam




جمعہ کے لئے اچھے کپڑوں کا اہتمام

حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم میں سے کسی کے لئے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اگر اس کو وسعت ہو تو وہ روز مرہ کے کام کاج کے وقت پہنے جانے والے کپڑوں کے علاوہ جمعہ کے دن کے لئے کپڑوں کا ایک خاص جوڑا بنا کر رکھ لے۔" (رواہ ابن ماجہ)

Ghar aur jaidad bechna kesa he



گھر اور جائیداد بیچنا کیسا ہے؟

حضرت سعید بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے کوئی اپنا گھر یا جائیداد بیچے تو سزاوار ہے کہ اس کے اس عمل میں برکت اور فائدہ نہ ہو۔ البتہ اگر وہ اس کی قیمت کو اسی طرح کی کسی جائیداد میں لگا دے (پھر ٹھیک ہے) (رواہ ابن ماجہ)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی پر حکمت رہنمائی فرمائی ہے۔ مکان اور جائیداد وغیرہ اگر بیچ کر رقم حاصل کر لی جائے تو وہ جلد ہی وقتی اخراجات میں ختم ہو جاتی ہے اور آدمی جائیداد سے محروم ہو جاتا ہے اور پھر پچھتاوے کے علاوہ کچھ پاس نہیں رہتا۔ مکان اور جائیداد ایک مستقل ضرورت کی چیز ہوتی ہے جو انسان کے لئے بہت سہولت مہیا کرتی ہے۔ یہ مشورہ اصل میں امتیوں کے ساتھ رأفت و رحمت کا تعلق کا ظہور ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرح کے مشفقانہ مشوروں پر عمل کی توفیق دے۔


Aafiyet ki fazeelat

عافیت کی فضیلت

حضرت اوسط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: پچھلے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ پر کھڑے ہوئے تھے۔ اور پھر ان پر گریہ طاری ہوگیا۔ پھر انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان و یقین کے بعد افضل ترین چیزعافیت ہے اور تم پر سچائی اختیار کرنا لازم ہے کیونکہ سچائی وفاداری کی ساتھی ہے اور ان دونوں کا ٹھکانہ جنت ہے،اور جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ اور نافرمانی ساتھی ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ باہم حسد نہ کرو اور بغض نہ رکھو۔ باہمی تعلقات نہ توڑو اور ایک دوسرے سے جدا نہ رہو اور بھائی بھائی بن کر رہو جیسے اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم پرفرمایا ہے۔ (رواہ احمد و ابن ماجہ)