حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لذتوں کو کاٹنے والی کو بہت یاد کرو۔" رواہ الترمذی

Do Qabil e Qadar nematein




دو قابلِ قدر نعمتیں

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :"دو نعمتیں ایسی ہیں کہ ان کے بارے میں لوگ فریب اور دھوکہ کھائے ہوئے ہیں (اور وہ دونوں نعمتیں) تندرستی اور فراغت ہیں۔" (رواہ البخاری)

مذکورہ نعمتوں میں سے ایک نعمت تو تندرستی ہے یعنی جسم و بدن کا امراض سے محفوظ رہنا اور دوسری نعمت ہے، فراغت۔ یعنی اوقات کا غم، روزگار کے مشاغل اور مصروفیات اور تفکرات و تشویشات سے فارغ و خالی ہونا۔ چنانچہ دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اپنی غفلت شعاری کی بنا پر ان دو نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اور ان کے معاملے میں اپنے نفس سے فریب کھا کر ان کو مفت میں ہاتھ سے جانے دیتے ہیں، جیسا کہ کوئی شخص خرید و فروخت کے معاملے میں کسی کے فریب اور دھوکہ کا شکار ہو کر اپنے مال و متاع کی مفت گنوا دیتا ہے اور نقصان برداشت کرتا ہے۔ لہٰذا اس ارشادِگرامی میں ان لوگوں کے تیئں حسرت و افسوس کا اظہار ہے جو ان نعمتوں سے کماحقہ فائدہ نہیں اُٹھاتے۔بایں طور کہ نہ تو اپنی صحت و تندرستی کے زمانہ میں دین و دنیا کی بھلائی و فائدہ کے کام کرتے ہیں اور نہ فرصت کے اوقات کو غنیمت جان کر ان میں آخرت کے اُمور کی طرف توجہ ہوتے ہیں۔ ہاں! جب ان کی صحت خراب ہوجاتی ہے، دنیا بھر کے تفکرات لاحق ہو جاتے ہیں اور غم روزگار کی گردش ان کے اوقات کو مختلف قسم کی مشغولیتوں اور تشویشوں سے جکڑ لیتی ہے، اس وقت ان کو ان نعمتوں کی قدر ہوتی ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے کیسے بیش قیمت مواقع گنوا دیے اور اس قول  "النعمة اذا فقدت، عرفت" (کہ نعمت کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب وہ جاتی رہتی ہے) کا مصدق بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان دونوں نعمتوں کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

No comments:

Post a Comment