حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لذتوں کو کاٹنے والی کو بہت یاد کرو۔" رواہ الترمذی

Maqrooz se hadiyah waghera lena




مقروض سے ہدیہ وغیرہ لینا

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آدمی کسی کو قرض دے تو اگر وہ مقروض آدمی قرض دینے والے کو کوئی چیز ہدیہ دے یا سواری کے لئے اپنا جانور پیش کرے تو چاہئے کہ وہ ہدیہ قبول نہ کرے  اور سواری کو استعمال میں نہ لائے الا یہ کہ ان دونوں کے درمیان پہلے سے اس طرح کا تعلق یا معاملہ ہوتا رہا ہے۔ (رواہ  ابن ماجہ)

یہ ہے وہ محتاط طرز عمل جس کی طرف اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی فرمائی ہے، کہ اگر کوئی مقروض شخص قرض دینے والے کو کوئی ہدیہ پیش کرے تو وہ اسے قبول نہ کرے، اس لئے کہ ایسے معاملے میں سود کا شائبہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ جبکہ سود اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کے شائبہ سے بھی بچنا لازم ہے۔ اس گناہ پر تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی وعید ہے۔ ہم بعض مالی معاملات کی ان صورتوں کو جو سود کی حرمت سے پہلے جائز تھیں صرف اس لئے جائز ٹھہرائے ہوئے ہیں کہ ان کا ذکر احادیث میں ہے اور یہ نہیں سوچتے کہ سود ٩ھ میں حرام ہوا ہے جبکہ ان معاملات کے بارے میں ذکر پہلے دور سے متعلق ہے۔ غور کرنا چاہئے کہ مزارعت اور لگان پر زمین حاصل کرنا بھی کچھ اس نوع کا معاملہ نہیں ہے!

No comments:

Post a Comment