حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لذتوں کو کاٹنے والی کو بہت یاد کرو۔" رواہ الترمذی

Haq ko samjhne ke bawjood nahaq faisla kerne wale ka anjaam




حق کو سمجھنے کے باوجود ناحق فیصلہ کرنے والے کا انجام

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قاضی/جج تین قسم کے ہیں۔ ان میں سے ایک جنت کا مستحق ہے اور دو دوزخ کے۔ جنت کا مستحق قاضی/جج وہ ہے جس نے حق کو سمجھا اور اس کے مطابق فیصلہ کیا۔ اور جس حاکم نے حق کو سمجھنے کے باوجود ناحق فیصلہ کیا وہ دوزخ کا مستحق ہے اور دوسرے وہ قاضی/جج دوزخ کا مستحق ہے جو بے علم اور جاہل ہونے کے باوجود فیصلہ کرنے بیٹھ جائے۔ (رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ)


صاف ظاہر ہے کہ جب کو شخص اہل ہی نہ ہو اور وہ فتویٰ اور قضاء کا منصب سنبھال لے تو باوجود نیک نیت اور عادل ہونے کے غلط فیصلے کرے گا اور ایسے غلط فیصلہ پر وہ کسی اجر کا حقدار نہ ہو گا بلکہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال لے گا۔ مثل مشہور ہے کہ نیم حکیم خطرہ جان، نیم ملا خطرہ ایمان۔ اور جس کو قاضی بنایا جاتا ہے اس پر تو بہت بڑی ذمہ داری آجاتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےتو فرمایا ہے:"جو لوگوں کے درمیان منصف بنا دیا گیا وہ تو گویا بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا۔" قاضی و جج بننا کوئی معمولی ذمہ داری اور منصب نہیں ہے بلکہ کانٹوں کا تاج سر پر رکھنے کے مترادف ہے۔ چنانچہ جو قاضی اس منصب کا حق ادا کرے اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے وہ جنت کا مستحق ہے۔ 

No comments:

Post a Comment