حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لذتوں کو کاٹنے والی کو بہت یاد کرو۔" رواہ الترمذی

Gher zaruri sawalat se mamaneat



غیر ضروری سوالات کی ممانعت

"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تم کو جن کاموں سے روکا ہے ان سے بچو اور جن چیزوں کا حکم دیا ہے جہاں تک ہو سکے ان کو کرو (خواہ مخواہ سہولت میں مت پڑو) کیونکہ پہلی امتوں  کے لوگوں کو زیادہ سوال کرنے اور نبیوں کے خلاف چلنے کی طرز ِعمل نے ہلاک کر دیا۔"
 (رواہ البخاری و مسلم)

بہت سے لوگوں کو سوالات کرنے کی عادت ہوتی ہے ۔سوال و جواب اور قیل و قال ان کی ذہنی تفریح اور دماغی عیاشی بن جاتے ہیں، تصوف کی باریکیاں اور فقہ کی نکتہ سنجیاں اور لفظی لطیفہ بازیاں تو بہت جانتے ہیں لیکن عمل میں کورے نظر آتے ہیں۔یہ حرکت بہت جا اور بُری ہے۔ بعض لوگ حضرت موسیٰ علیہ الصلٰوة و السلام کی والدہ کا نام پوچھا کرتے تھے حالانکہ اس کی کچھ ضرورت نہیں ہے کیونکہ جسے موصوفہ کا نام معلوم نہ ہو گا اُسے جنت میں جانے سے نہیں روکا جائے گا، حالانکہ ہو سکتا ہے ایسے لوگوں کو نماز کے فرائض اور واجبات  تک معلوم نہ ہوں اور نماز میں پڑھنے کی چیزیں صحیح یاد نہ ہوں کہ جن کا جاننا نجات کے لئے ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو کچھ انسانی ہدایت کے لئے ضروری تھا اس کو نازل کر دیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت فرما دی۔ اس لئے بے جا سوالات سے بچتے ہوئے اصل ضرورت حسب استطاعت عمل کرنے کی ہے۔

No comments:

Post a Comment