حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لذتوں کو کاٹنے والی کو بہت یاد کرو۔" رواہ الترمذی

Hadiyah dilon ki kadoorat door kerta he




ہدیہ دِلوں کی کدورت دور کرتا ہے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"آپس میں ہدیے،تحفے دیا کرو۔ ہدیہ سینوں کی کدورت و رنجش دور کر دیتا ہے اور ایک پڑوسن دوسری پڑوسن کے ہدیہ کو حقیر اور کمتر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کے کُھر  کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔" (رواہ الترمذی)

تشریح: ہدیے تحفے دینے سے باہمی رنجشوں اور کدورتوں کا دور ہونا، دلوں میں جوڑ، تعلقات میں خوشگواری پیدا ہونا بدیہی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ اس زریں ہدایت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو یہ اضافہ ہے کہ ایک پڑوسن دوسری پڑوسن کے لئے بکری کے کُھر کے ٹکڑے کے ہدیہ کو بھی حقیر نہ سمجھے، اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ ہدیہ دینے کے لئے ضروری نہیں کہ بہت بڑھیا ہی چیز ہو، اگر اس کی پابندی اور اس کا اہتمام کیا جائے گا تو ہدیہ دینے کی نوبت بہت کم آئے گی۔ اس لئے بالفرض اگر گھر میں بکری کے پائے پکے ہیں تو پڑوسن کو بھیجنے کے لئے اس کے ایک ٹکڑے کو بھی حقیر نہ سمجھا جائے، وہی بھیج دیا جائے۔

No comments:

Post a Comment